مفت میں راشن دینے پر معلق طلاق کا حکم
سوال: مفت میں راشن دینے پر معلق طلاق کا حکم
جواب:
اگر یہ نیاز غیر اللہ کے نام پر ہے تو اس کا کھانا حرام ہے، اور اگر نیاز اللہ کے نام پر دی جارہی ہو اور اس سے مقصود میت کو ثواب پہنچانا ہو تو بھی دن کی تخصیص کی وجہ بدعت ہے، لیکن کھانا حرام نہیں ہو گا، تاہم اس سے اجتناب کیا جائے۔
کفایت المفتی میں ہے:
"گیارھویں کی نیاز سے اگر مقصد ایصال ثواب ہے تو اس کے لئے گیارھویں تاریخ کی تعیین شرعی نہیں، نیز حضرت غوث الاعظم رحمۃ اللہ علیہ کی تخصیص نہیں، تمام اولیائے کرام رحمۃ اللہ علیہم اور صحابہ عظام رضی اللہ تعالی عنہم اس کے مستحق ہیں، سال کے جن دنوں میں میسر ہو اور جو کچھ میسر ہو صدقہ کر دیا جائے اور اس کا ثواب بزرگانِ دین اور اموات مسلمین کو بخش دیا جائے فقراء اس کھانے کو کھا سکتے ہیں، امراء اور صاحب نصاب نہیں کھا سکتے کیونکہ یہ ایصال ثواب کے لئے بطور صدقہ کے ہوتا ہے۔"
(کتاب العقائد، ج:1، ص:168، ط:دار الاشاعت)
امداد المفتین میں ہے:
"سوال: گیارہ تاریخ کا کھانا پکا کر غوث اعظم کے لئے ایصال ثواب کرنا اور یہ کہنا کہ یہ کھانا بڑے پیرصاحب کی نیاز کا ہے یا یہ کہنا گیارہویں کا ہے، ایسے کھانے حلال ہیں یا نہیں؟
الجواب: اگر بڑے پیر صاحب ہی کے نام کی نذر ہے تو حرام ہے اگر کھانا مساکین کو بطور صدقہ کے خالصاً لوجہ اللہ کھلائے اور پھر اس کا ثواب پیر صاحب کو بخشے تو یہ کھانا حرام نہیں ہو گا لیکن خاص گیارہویں تاریخ کا تعین کر کے کھلانا اور اس کا التزام کرنا یہ بدعت و ناجائز پھر بھی ہو گا۔"
(كتاب السنة والبدعة، ج:2، ص:164، ط:دار الاشاعت)
فتاوی شامی میں ہے:
"واعلم أن النذر الذي يقع للأموات من أكثر العوام وما يؤخذ من الدراهم والشمع والزيت ونحوها إلى ضرائح الأولياء الكرام تقربا إليهم فهو بالإجماع باطل وحرام ما لم يقصدوا صرفها لفقراء الأنام وقد ابتلي الناس بذلك ولا سيما في هذه الأعصار. وفي الرد: مطلب في النذر الذي يقع للأموات من أكثر العوام من شمع أو زيت أو نحوه (قوله: تقربا إليهم) كأن يقول يا سيدي فلان إن رد غائبي أو عوفي مريضي أو قضيت حاجتي فلك من الذهب أو الفضة أو من الطعام أو الشمع أو الزيت كذا بحر (قوله: باطل وحرام) لوجوه: منها أنه نذر لمخلوق والنذر للمخلوق لا يجوز لأنه عبادة والعبادة لا تكون لمخلوق."
(كتاب الصوم، ج:2، ص:439، ط:سعيد)
فقط واللہ اعلم
